Showing posts with label شہر خاموشاں. Show all posts
Showing posts with label شہر خاموشاں. Show all posts
03:44

ملگجی شام پھر نہیں آئی

ملگجی شام پھر نہیں آئی

لے کے دامن میں اپنے رسوائی







کھو چکے ہیں متاع جان و جگر
نزہت بزم کے تمنائی







ہے ہر اک روپ میں ترا پرتو
تُو تو نکلا بڑا ہی ہرجائی







تیرگی وہ ملی شب فرقت
جس سے نرگس بھی خوب شرمائی







یوں کھلے ہیں دریچے یادوں کے
بڑھ گیا اور شوق تنہائی







چھوڑ کر آج لالہ و گل کو
بوئے گلشن بھی کتنی پچھتائی







زیست کی پُرفریب راہوں پر
دل نے چاہی ہے پھر شناسائی







ہے اسیری جو شہر خاموشاں
ہم نے دانش نہ جاوداں پائی

Ping back

DreamHost Coupon

Recent Blog Posts

Recent Comments

your widget